آن لائن کلاسز میں بچوں کے نت نئے حربے


لندن سے خبرہے کہ، آج کل جہاں آن لائن امتحانات میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھا جارہا ہے ہیں بچے زوم جیسے پلیٹ فارم پر بھی اپنی شناخت چھپانے یا کسی اور بچے کی شناخت ظاہر کرنے میں ماہر ہوگئے ہیں۔

بچے کلاس کے دوران بار بار نئے نام سے Reconnetہوتے رہتے ہیں تاکہ اُنہیں ٹیچر کے سوالات کے جابات نہ دینے پڑیں۔ بچوں کی اس قسم کی حرکات کی خبریں دنیا بھر سے موصول ہورہی ہیں۔ ٹیچرز کا ماننا ہے کہ ایسے بچے بذاتِ خود بہت ذہین ہوتے ہیں اور ایسا کرنے سے اُنہیں کوئی فرق بھی نہیں پڑے گا۔

    ایک شخص کا کہنا ہے کہ اس کی بیگم ایک ٹیچر ہے جس نے اُسے بتایا کہ ایک بچہ آن لائن کلاس کے دوران بار بار اپنا نام تبدیل کرکے شامل ہوتا رہتا ہے تاکہ اُسے میرے سوالات کے جوابات نہ دینے پڑیں، وہ بچہ یہ حرکتیں کوئی ہفتوں سے کررہا تھا اور ٹیچر بھی اس سے دھوکہ کھا رہی تھی مگر پھر ٹیچر سمجھ گئی کہ کچھ تو گڑبڑ ہے اور پھر اُس طالب علم کو وارننگ دے دی گئی۔

ایک ٹیچر نے بتایا کہ آن لائن تعلیم کے دوران بعض بچے غلط کام بھی کررہے ہیں ایسے بچے دوسرے بچوں کے نام سے آن لائن ہوجاتے ہیں اور پھر گروپ میں گالیاں اور نازیبا الفاظ لکھ دیتے ہیں جس سے پڑھائی تو متاثر ہوتی ہی ہے لیکن غلط فہمیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آن لائن تعلیم کوئی باضابطہ طریقہ تعلیم نہیں ہے نا ہی طلباء کو اس حوالے سے کوئی تربیت دی جاتی ہے اورتو اور اساتذہ بھی آن لائن تعلیم کے حوالے سے کوئی خاص شعور نہیں رکھتے ایسے میں دنیا بھر میں آن لائن تعلیم کے نام پر آنے والی نسل کے مستقبل سے کھیلا جارہا ہے آپ ہمیں کمنٹ میں بتائیں کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

Comments